Uncategorized

YAHEEN AA KAA RUKNAA THAA QAFLAA..2nd..episode

’’نہیں ۔۔۔۔ کافی پےؤں گا۔‘‘ اس نے ساس پین میں کافی کے لیے دودھ گرم ہونے کے لئے چولہے پر رکھتے ہوئے ایک نظر کچن کے دروازے سے نظر آتے ڈائننگ ٹیبل پر اسے کرسی کھسکاکر بیٹھتے دیکھا تھا اس نے نظریں واپس کام کی جانب موڑ لیں۔ وہ ٹرے میں سالن روٹی اور کافی بھرا مگ رکھے باہر آئی کہ اسے ڈائننگ ٹیبل پر ہتھیلی پر تھوڑی جمائے کچھ سوچتے دیکھا تھا۔ وہ ٹرے اس کی جانب رکھ کر پلٹنے لگی تھی کہ وہ بولا۔
’’بیٹھ جاؤ۔‘‘ اس نے ہمیشہ کی طرح انکار نہیں کے اتھا اور خاموشی سے ایک کرسی کھسکا کر بیٹھ گئی تھی۔
’’تم نے کھانا کھایا ہے؟‘‘ جواب میں اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
وہ سر جھکا کر کھانے میں مصروف ہو گیا تھا۔ کھانے کے دوران اس نے کوئی بات نہیں کی۔ اس کے کھانا ختم کر تے ہی وہ ٹرے میں خالی برتن رکھے کچن میں چلی آئی تھی۔ برتن دھو کر ریک میں رکھ کر وہ واپس آئی تو وہ بولا۔
’’بیٹھو۔‘‘کافی کا سپ لیتے ہوئے اس نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔ وہ خاموشی سے ایک مرتبہ پھر سر جھکاکر بیٹھ گئی۔
’’میں نے تم سے کچھ پوچھاتھا۔‘‘
’’کیا۔۔۔۔؟‘‘ وہ جان کر انجان بن گئی۔
’’کسی نے کچھ کہا ہے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘اس نے نفی میں سر ہلایا تھا۔
’’تو پھر۔۔۔۔؟‘‘اب بھی اس کی سوالیہ نگاہیں اس کے چہرے پر گڑی ہوئیں تھیں۔
’’تیمور !میں نے کہا نا ویسے ہی۔‘‘ ایک دم ہی وہ اپنی کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
’’تم ویسے ہی اس طرح نہیں روتیں۔‘‘ وہ کافی کا سپ لیتے ہوئے پر سکون انداز میں بولا۔
’’میں سچ کہہ رہی ہوں۔‘‘اس نے تیمور کی جانب دیکھا تھا اور اگلے لمحے وہ اپنی نظریں جھکا گئی۔ وہ زیادہ دیر اس سے نظریں نہیں ملا پائی تھی۔
’’تم کہتی ہو تو میں مان لیتا ہوں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ تم جھوٹ بول رہی ہو۔‘‘ اب اس نے تیمور کو لاپرواہی سے کندھے اچکا کر مگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے دیکھا۔
’’میں سونے جا رہی ہوں تم اپنے کمرے میں جانے لگو تو لائٹ آف کر کے جانا۔‘‘اس نے کہا۔
’’آج اپنی چاکلیٹ نہیں لو گی؟‘‘ کمرے سے نکلتے نکلتے وہ اس کی آواز پر مڑی تھی۔ وہ اسی کی جانب دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں چاکلیٹ تھی۔ وہ آگے بڑھا کر ان اس نے چاکلیٹ پکڑ لی اور آہستگی سے مڑگئی تھی۔
اس کے کمرے سے نکلتے ہی ایک گہری سانس لے کر وہ بھی اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔
(***)
اپنے کمرے میں بیڈ پر بیٹھتے ہی اس نے ہاتھ میں پکڑی چاکلیٹ پر نظر ڈالی تھی۔
ہاں آج اسے چاکلیٹ لینا بھی یاد نہیں رہا تھا۔ بلکہ آج تو اسے کچھ بھی یاد نہیں رہا تھا۔
ہر کام وہ الٹ کر رہی تھی حتیٰ کہ اس کے قدم بھی رکھتی کہیں تھی اور پڑتے کہیں تھے۔
نہیں ایسا تو ہمیشہ سے ہو رہا ہے۔ کئی سالوں سے وہ زندگی میں ہر لمحہ اٹھتے قدم بھی ٹھیک طرح سے جما نہیں پاتی تھی کہ اگلا اٹھتا قدم پہلے قدم کو بھی کمزور کر دیتا تھا۔ کتنے سالوں سے یہی ہو رہاتھا۔ اس نے اپنی انگلیوں کی پوروں پر گننے کی کوشش کی تھی مگر پھر اس کی گنتی رک گئی تھی۔
’’نہیں ۔۔۔میں اس وقت سوچنا نہیں چاہتی۔ بس وہ ماضی تھا گزر گیا۔ کیا میں اس گزر ماضی کے لئے اپنے حال کو خراب کروں۔ ویسے بھی اس وقت میں سونا چاہتی ہوں۔ ایک پرسکون نیند لینا چاہتی ہوں۔‘‘ یہ سوچتے ہی اس نے چاکلیٹ کا ریپر کھولا۔ لیکن وہ ایک مرتبہ پھر خود کو سوچنے سے روک نہیں پیائی تھی۔ وہ چند لمحے پہلے کے واقعات سوچتے ہوئے ہے ساختہ ہی اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری تھی۔
’’کتنا حیران ہو رہا تھا۔‘‘ وہ یہ سوچتے ہوئے لیٹ گئی تھی۔
’’ابھی اسے کچھ نہیں پتہ تبھی وہ پر سکون ہے۔ میں پریشان ہوں کہ مجھے پتہ ہے۔ وہ محض میری حالت دیکھ کر پریشان ہوا ہے۔جب اسے پتہ چلے گا تو وہ بھی پریشان ہو گا اور ۔۔۔۔ اورکیا میں اس کو پریشان دیکھ کر حیران ہونگی۔ کیا اس کا خلاف معمول کام کرنا مجھے حیران کرئے گا۔‘‘ چادر کھول کر ٹانگوں پر پھیلاتے ہوئے اس نے جیسے خود سے سوال کیا تھا۔ اور پھر جیسے گہری سانس لے کر وہ لیٹ گئی تھی۔ سینے تک چادر کھینچتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کرتے سوچا تھا۔
’’نہیں ۔۔۔۔ اس لئے ۔۔۔۔اس لئے کہ مجھے ابھی سے علم ہے۔‘‘ چند لمحے سکت لیٹنے کے بعد اس نے ہاتھ بڑھا کر بیڈ کے قریب دیوار کے ساتھ لگے سوچ بورڈ پر ہاتھ رکھا تھا۔ کمرے میں اندھیرا چھا گیا تھا۔
…to be continued

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - اپریل 21, 2019 at 6:53 صبح

Categories: Uncategorized   Tags:

YAHEEN AA KAA RUKNAA THAA QAFLAA..1st..episode

یہیں آ کے رکنے تھے قافلے

’’نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘صحن میں ستون سے ٹیک لگائے اس نے یہ سوچتے ہوئے سر اُٹھا کر آسمان کی تاریکیوں میں کچھ دیکھنے کی کوشش کی تھی۔’’کیا کچھ نہیں ہو سکتا۔‘‘ اسے اپنے دل سے آواز آتی سنائی دی۔’’ہاں واقعی کیا کچھ نہیں ہو سکتا اور کیا نہیں ہوا؟ کیا کر پائے کچھ بھی تو نہیں۔‘‘بالآخر اس کے ذہن نے بھی دل کی سوچ پر ہار مان کی تھی۔ کتنی ہی دیر وہ پلکیں بند کئے ساکت کھڑی رہی کہ رات کے پرسکون ماحول میں ایک آواز نے ارتعاش پیدا کیا تھا۔ بس یہ ارتعاش لمحے بھر کا تھا۔ اسے لگا تھا کہ جیسے کوئی چیز گری ہو۔ یک لخت ہی اس نے آنکھیں کھولیں تھیں۔ اسے اپنے جسم میں لمحہ بھر کو حرکت محسوس ہوئی تھی۔ ایک لمحے کے لئے ایک انجانے خوف نے اس کے جسم کو اپنی لپیٹ میں لیا اور پھر اس نے خود کو ایک مرتبہ پھر اپنی جگہ پر ساکت پایا تھا۔ آدھی رات کی تاریکی سارے صحن پر قبضہ جمائے ہوئے تھی۔ اس کی نظریں سامنے جم گئیں تھیں۔ وہ جو کوئی بھی تھا اب زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا۔ یقینااس نے دیوار سے چھلانگ لگائی تھی۔ اس نے اب ہیولے کو اپنی جگہ کھڑے ہوتے دیکھا تھا۔اس نے ایک گہری نظر اندھیرے میں نظر آنے والے وجود پر ڈالی تھی اور پھر سے آنکھیں بند کر لیں تھیں۔’’کیا اس نے مجھے دیکھ لیا ہو گا؟‘‘ اس نے سوچا تھا اگلے لمحے اسے اپنے وجود کے کہیں اندر سے آواز آئی تھی۔’’کیوں نہیں جب میں نے اندھیرے میں اسے دیکھ لیا تو وہ زیرو پاور کے بلب کی روشنی میں مجھے اب تک نہ سیکھ پایا ہوگا۔‘‘’’کیا مین گیٹ پر کوئی بلب نہیں؟‘‘ کتنے ہی سالوں میں پہلی مرتبہ اس نے اسبارے میں سوچا تھا۔ بلکہ اس نے اس بات کی ضرورت محسوس کی تھی۔مین گیٹ میں بنے پلر پر بلب ہولڈر تو ہے لیکن کبھی بلب جلتے نہیں دیکھا۔ ہاں میں صبح ہی چھوٹے چچا سے کہہ کر بلب لگواؤں گی۔بند آنکھوں سے سوچتے ہوئے اس کے کانوں میں قدموں کی چاپ سنائی دی تھی۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ چاپ کی آواز اسے قدم قدم قریب سنائی دے رہی تھی اور پھر۔۔۔۔ پھر تھم گئی تھی۔’’ہاں وہ رک گیا ہے اور اب۔۔۔ اب ہمیشہ کی طرح وہ اس پر بگڑے گا۔ اس کے اس طرح صحن میں اپنے انتظار میں کھڑا دیکھ کر غصے میں آئے گا۔‘‘ اور اس کا اندازہ درست نکلا تھا وہ بولا تھا لیکن جو جملہ اس کی زبان سے ادا ہوا تو اسے سن کر وہ یک لخت ہی آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگی تھی۔ کتنے ہی لمحے وہ حیرت سے نظریں اس کے چہرے پر ٹکائے رہی۔’’میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے؟‘‘’’ہا ۔۔۔۔ ہاں۔‘‘ چونکتے ہوئے وہ بے اختیار ہی اپنا دائیاں ہاتھ چہرے تک لے گئی تھی۔ گال کو چھوتے ہی اس نے انگلیوں میں نمی محسوس کی تھی۔’’پتہ نہیں۔‘‘ اگلے ہی لمحے وہ یہ کہتے ہوئے مڑی تھی اور اندر کی جانب بڑھی تھی۔ اس نے ہمیشہ کی طرح مڑکر یہ دیکھنے کی کوشش نہیں کی تھی کہ وہ اس کے پیچھے آرہا ہے یا نہیں۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اندر بڑھتی چلی گئی۔ اور پھر نامحسوس انداز میں وہ اپنی جگہ پر ٹھہر گئی تھی۔ ہمیشہ کی طرح اسے اپنے پیچھے دروازہ لاک کرنے کی آواز سنائی نہیں دی تھی۔ وہ پلٹی تھی۔ اس کا خیال ٹھیک تھا۔ وہ اس کے پیچھے موجود نہیں تھا۔ وہ دروازے کی جانب بڑھی تھی اور دروازے کے درمیان رک کرصحن میں نگاہ ڈالی تھی۔ وہ ابھی تک وہیں کھڑا تھا اور اس کی جانب ہی دیکھ رہا تھا۔’’آ بھی جاؤ اس طرح کیوں کھڑے ہو؟‘‘اتنا کہہ کر وہ ایک مرتبہ پھر پلٹی اس کے قدم کچن کی جانب بڑھ رہے تھے لیکن اس کے کان پیچھے آنے والی آوازوں پر لگے ہوئے تھے۔ دروازہ لاک ہونے کی آواز کے ساتھ ہی اس نے مطمئن ہو کر قدم بڑھائے تھے۔ کچن میں پہنچ کر اس نے برنر آن کیا اور توا اس پر رکھ کر وہ سلیب پر پڑے ہاٹ پاٹ کی جانب بڑھی۔ ڈھکن اٹھا کر روٹی نکالی تھی کہ اسے اپنے پیچھے آواز سنائی دی۔ ’’کیا سب سو رہے ہیں؟‘‘’’آدھی رات کو جاگنے کی کیا تک بنتی ہے؟‘‘ تقریباً روز کیے جانے والے ایک ہی سوال پر وہ ہمیشہ کی طرح ایک ہی جواب میں دہرائے جانے والے جملے کو الفاظ کا روپ نہ دے پائی تھی بس سوچ کررہ گئی تھی۔’’ہاں سب سو رہے ہیں۔‘‘ اس کے غیر متوقع جواب پر اس نے حیرت سے اس کے چہرے کو دیکھا تھا۔’’چائے پےؤ گے؟‘‘ نجانے وہ کتنی دیر اسے دیکھتارہتا کہ اس کی آواز پر وہ دروازے پر سے ہی پلٹ گیا۔…..to be continued

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - اپریل 15, 2019 at 1:55 شام

Categories: English Poetry, happy new year sms, Picture Poetry, shyari/poetry, Uncategorized, Urdu Poetry   Tags:

YAHEEN AA KAA RUKNAA THAA QAFLAA..introduction


یہیں آ کے رکنے تھے قافلے

مریم ماہِ منیر…مصنفہ

نوٹ؛
اس کتاب کے جملہ حقوق بحق مصنفہ محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ مصنفہ کی تحریری اجازت کے بغیر کہیں بھی شائع نہیں کیا جا سکتا۔اگر اس قسم کی صورت حال ظہور پزیر ہوتی ہے تو قانونی کاروائی کا حق محفوظ ہے۔اس کتاب کے تمام کردار فرضی ہیں۔اور اس کتا ب کے کسی بھی حصہ کو بطور سندکسی بھی عدالتی کاروائی میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - at 7:11 صبح

Categories: Uncategorized   Tags:

کمال جوش جنوں میں رہا میں گرم طواف Poet: Allama Iqbal

کمال جوش جنوں میں رہا میں گرم طواف
خدا کا شکر سلامت رہا حرم کا غلاف

یہ اتفاق مبارک ہو مومنوں کے لیے
کہ یک زباں ہیں فقیہان شہر میرے خلاف

تڑپ رہا ہے فلاطوں میان غیب و حضور
ازل سے اہل خرد کا مقام ہے اعراف

ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازیؔ نہ صاحب کشافؔ

سرور و سوز میں ناپائیدار ہے ورنہ
مے فرنگ کا تہ جرعہ بھی نہیں ناصاف

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - اگست 7, 2018 at 6:46 شام

Categories: English Poetry, Picture Poetry, shyari/poetry, Uncategorized, Urdu Poetry   Tags: ,

Good Night

http://funnysms.pakreseller.com/cat/dua-prayers-sms/
http://www.sms2friends.com/dua-sms/

https://uniquefunnysms.wordpress.com/2009/05/26/best-collection-of-new-dua-prayers-sms/

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - جولائی 30, 2018 at 9:59 شام

Categories: Uncategorized   Tags:

maryam mah munir..1

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - جولائی 15, 2018 at 6:10 صبح

Categories: Uncategorized   Tags:

maryam mah munir..6

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - جولائی 6, 2018 at 6:22 صبح

Categories: English Poetry, Picture Poetry, shyari/poetry, Top Searches, Uncategorized, Urdu Poetry   Tags:

maryam mah munir..3

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - جولائی 5, 2018 at 6:12 صبح

Categories: Picture Poetry, shyari/poetry, Uncategorized, Urdu Poetry   Tags:

maryam mah munir..7

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - جولائی 2, 2018 at 6:20 صبح

Categories: shyari/poetry, Top Searches, Uncategorized, Urdu Poetry   Tags:

maryam mah munir….

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - at 6:09 صبح

Categories: Uncategorized   Tags:

Mein Habib Hoon by Maryam Mah Munir

http://freeurdudigest.blogspot.com/2016/12/mein-habib-hun-novel-by-maryam-mah-e.html

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - مئی 26, 2018 at 3:29 شام

Categories: Uncategorized   Tags:

maryammahmunir..

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - مئی 23, 2018 at 3:18 شام

Categories: Uncategorized   Tags:

اتنا معلوم ہے ، خوابوں کا بھرم ٹوٹ گیا Poetess: PERVEEN SHAKIR

اپنے بستر پہ میں بہت دیر سے نیم دراز
سوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہوگا
میں یہاں ہوں مگر اُس کوچہء رنگ و بو میں
روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہوگا
اور جب اُس نے وہاں مجھ کو نہ پایا ہوگا ؟
آپ کو علم ہے ، وہ آج نہیں آئی ہیں ؟
میری ہر دوست سے اُس نے یہی پوچھا ہوگا
کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہوئی ہے آخر
خود سے اس بات پہ سو بار وہ اُلجھا ہوگا
کل وہ آئے گی تو میں اُس سے نہیں بولوں گا
آپ ہی آپ کئی بار وہ روٹھا ہوگا
وہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھن
سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اُس نے یہ سوچا ہوگا
راہداری میں ،ہرے لان میں ، پھولوں کے قریب
اُس نے ہر سمت مجھے ڈھونڈا ہوگا
نام بھولے سے جو میرا کہیں آیا ہوگا
غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہوگا
ایک جملے کو کئی بار سُنایا ہوگا
بات کرت ہوئے سو بار وہ بھولا ہوگا
یہ جو لڑکی نئی آئی ہے ، کہیں وہ تو نہیں
اُس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہوگا
جانِ محفل ہے ، مگر آج فقط میرے بغیر
ہائے کس درجہ بھری بزم میں تنہا ہوگا
کبھی سنّاٹوں سے وحشت جو ہوئی ہوگی اُسے
اُس نے بے ساختہ پھر مجھ کو پکارا ہوگا
چلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پا کر
دوستوں کو بھی کسی عذّر سے روکا ہوگا
یاد کر کے مجھے ، نم ہوگئی ہوں گی پلکیں
آنکھ میں پڑ گیا کچھ کہہ کہ یہ ٹالا ہوگا
اور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہوگی بناہ
ہر سطر میں میرا چہرہ اُبھر آیا ہوگا
جب ملی ہوگی اُسے میری علالت کی خبر
اُس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہوگا
سوچ کر یہ کہ بہل جائے پریشانیء دل
یونہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہوگا
اتفاقاً مجھے اُس شام میری دوست ملی
میں نے پوچھا کہ سنو آئے تھے وہ ؟ کیسے تھے ؟
مجھ کو پوچھا تھا ؟ مجھے ڈھونڈا تھا چاروں جانب
اُس نے اِک لمحے کو دیکھا مجھے اور پھر ہنس دی
اُس ہنسی میں تو وہ تلخی تھی کہ اُس سے آگے
کیا کہا اُس نے مجھے یاد نہیں ہے ! لیکن ۔۔۔ ۔۔
اتنا معلوم ہے ، خوابوں کا بھرم ٹوٹ گیا

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - نومبر 7, 2017 at 7:16 شام

Categories: Uncategorized   Tags:

Wait For Your Precious Comments

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - نومبر 4, 2017 at 8:11 شام

Categories: Uncategorized   Tags:

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - اکتوبر 8, 2017 at 5:38 شام

Categories: shyari/poetry, Uncategorized, Urdu Poetry   Tags:

Peshavare Namkien Haandee

Ingridients..اجزاء:
چکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک کلو
نمک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسب پسند
کالی مرچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ایک ٹیبل اسپون
گرم مصالحہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ٹیبل اسپون
ہری مرچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چھہ عدد
دہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک پاؤ
لہسن،ادرک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوٹیبل اسپون
ہری پیاز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تین عدد
ادرک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ا انچ کا ٹکڑا
آئل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آدھا کپ

Recepie

آئل میں ہری مرچ،ادرک ڈال کر تھوڑا فرائی کر کے اب چکن،لہسن،ادرک کا پیسٹ ڈال کر بھوئیں ۔نمک،کالی مرچ،گرم مصالحہ اور دہی ڈال کر ڈھک دیں پانچ منٹ کے لیے ۔آخر میں ہری پیاز اور ادرک ڈال کر پیش کریں

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - اکتوبر 6, 2017 at 5:58 شام

Categories: Uncategorized   Tags:

Syed lmtiaz Ali Taj

Syed lmtiaz Ali Taj is a Pakistani prose and drama writer. He was born in Lahore. After his education, he was able to partake in his father’s publishing institution, Dar-ul-Ishaat Punjab.

During his college days he showed his literary qualities by translating and directing several English plays, and then staging them for the college. He sometimes played female roles as girls in his times were not allowed to act.

In 1918 he began the literary magazine called ‘Kehkashan‘ in collaboration with his friend, Maulana Abdul Majeed Salik. In Phool he had the assistance of the famous short story writer Ghulam Abbas Ahmed as well as young Ahmed Nadeem Oasmi.

He translated into Urdu Shakespeare’s play ‘A Mid Summer Nights Dream’ and entitled it in ‘Sawan Rain ka sapna’. In 1922 he wrote ‘Anarkali’, which became a landmark in Urdu drama writing. This was later adapted into feature films in India and Pakistan.

In 1926 he wrote a play ‘Chacha Chhakan’ which was similar to the famous characters ‘Uncle Podger’ of the English dramatist Jerome, Chacha Chhakan remains until today the most humorous character in the Urdu literature.

Apart from criticism on drama, he also wrote radio plays, novels, short stories and several film stories, some of them directed by him. As the Director of ‘Majlis’ he republished many critical works of Urdu literature.

After the establishment of Pakistan, Syed lmtiaz Ali Taj conducted a daily feature ‘Pakistan Hamara Hai’ for Radio Pakistan. It was no doubt a popular programme.

On 19th April, 1970 while he was asleep, he was shot dead by some unknown persons. His wife Hijab lmtiaz Ali was seriously wounded.

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - اکتوبر 5, 2017 at 12:00 شام

Categories: Uncategorized   Tags:

Urdu Famous Novels

Mirat-al-Urus (The Bride’s Mirror; 1868–1869) by Deputy Nazeer Ahmed is regarded as the first novel in Urdu. Within twenty years of publication

Umrao-Jaan by Mirza Hadi Ruswa is also considered the first Urdu novel by many critics.

Taubat-un-Nasuh (Repentance of Nasuh; 1873–1874) by Deputy Nazeer Ahmed also focused on moral lessons for youth.

Fasaana-e-Mubtalaa (1885) was another novel for developing moral values and guidance for youth.

"Aag Ka Darya” by Quratulain Haider

"Udas Naslain” by Abdullah Hussain

"Jangloos” by Shaukat Siddiqui

Bina-tul-Nash- (The Daughters of the Bier, a name for the constellation Ursa Major) is another novel by Deputy Nazeer Ahmed. It was his 2nd novel after Mirat-tul-uroos. Like Mira-tul-Uroos, this novel is also on the education of women and their character building.

Zindagi (Everything Happens in Life; 1933–1934) by Chaudhry Afzal Haq describes the ups and downs of life for developing moral values and guidance of young people. His entire work is full of the teaching of moral values.

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - at 10:20 صبح

Categories: Uncategorized   Tags:

دل مرا جس سے بہلتا کوئی ایسا نہ ملا Poet: Akbar Allahabadi

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - اکتوبر 4, 2017 at 2:50 شام

Categories: Uncategorized   Tags:

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - اکتوبر 1, 2017 at 3:59 شام

Categories: English Poetry, online urdu stories, Picture Poetry, shyari/poetry, Uncategorized, Urdu Poetry   Tags:

google

اگلا صفحہ »