YAHEEN AA KAA RUKNAA THAA QAFLAA..2nd..episode

’’نہیں ۔۔۔۔ کافی پےؤں گا۔‘‘ اس نے ساس پین میں کافی کے لیے دودھ گرم ہونے کے لئے چولہے پر رکھتے ہوئے ایک نظر کچن کے دروازے سے نظر آتے ڈائننگ ٹیبل پر اسے کرسی کھسکاکر بیٹھتے دیکھا تھا اس نے نظریں واپس کام کی جانب موڑ لیں۔ وہ ٹرے میں سالن روٹی اور کافی بھرا مگ رکھے باہر آئی کہ اسے ڈائننگ ٹیبل پر ہتھیلی پر تھوڑی جمائے کچھ سوچتے دیکھا تھا۔ وہ ٹرے اس کی جانب رکھ کر پلٹنے لگی تھی کہ وہ بولا۔
’’بیٹھ جاؤ۔‘‘ اس نے ہمیشہ کی طرح انکار نہیں کے اتھا اور خاموشی سے ایک کرسی کھسکا کر بیٹھ گئی تھی۔
’’تم نے کھانا کھایا ہے؟‘‘ جواب میں اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
وہ سر جھکا کر کھانے میں مصروف ہو گیا تھا۔ کھانے کے دوران اس نے کوئی بات نہیں کی۔ اس کے کھانا ختم کر تے ہی وہ ٹرے میں خالی برتن رکھے کچن میں چلی آئی تھی۔ برتن دھو کر ریک میں رکھ کر وہ واپس آئی تو وہ بولا۔
’’بیٹھو۔‘‘کافی کا سپ لیتے ہوئے اس نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔ وہ خاموشی سے ایک مرتبہ پھر سر جھکاکر بیٹھ گئی۔
’’میں نے تم سے کچھ پوچھاتھا۔‘‘
’’کیا۔۔۔۔؟‘‘ وہ جان کر انجان بن گئی۔
’’کسی نے کچھ کہا ہے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘اس نے نفی میں سر ہلایا تھا۔
’’تو پھر۔۔۔۔؟‘‘اب بھی اس کی سوالیہ نگاہیں اس کے چہرے پر گڑی ہوئیں تھیں۔
’’تیمور !میں نے کہا نا ویسے ہی۔‘‘ ایک دم ہی وہ اپنی کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
’’تم ویسے ہی اس طرح نہیں روتیں۔‘‘ وہ کافی کا سپ لیتے ہوئے پر سکون انداز میں بولا۔
’’میں سچ کہہ رہی ہوں۔‘‘اس نے تیمور کی جانب دیکھا تھا اور اگلے لمحے وہ اپنی نظریں جھکا گئی۔ وہ زیادہ دیر اس سے نظریں نہیں ملا پائی تھی۔
’’تم کہتی ہو تو میں مان لیتا ہوں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ تم جھوٹ بول رہی ہو۔‘‘ اب اس نے تیمور کو لاپرواہی سے کندھے اچکا کر مگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے دیکھا۔
’’میں سونے جا رہی ہوں تم اپنے کمرے میں جانے لگو تو لائٹ آف کر کے جانا۔‘‘اس نے کہا۔
’’آج اپنی چاکلیٹ نہیں لو گی؟‘‘ کمرے سے نکلتے نکلتے وہ اس کی آواز پر مڑی تھی۔ وہ اسی کی جانب دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں چاکلیٹ تھی۔ وہ آگے بڑھا کر ان اس نے چاکلیٹ پکڑ لی اور آہستگی سے مڑگئی تھی۔
اس کے کمرے سے نکلتے ہی ایک گہری سانس لے کر وہ بھی اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔
(***)
اپنے کمرے میں بیڈ پر بیٹھتے ہی اس نے ہاتھ میں پکڑی چاکلیٹ پر نظر ڈالی تھی۔
ہاں آج اسے چاکلیٹ لینا بھی یاد نہیں رہا تھا۔ بلکہ آج تو اسے کچھ بھی یاد نہیں رہا تھا۔
ہر کام وہ الٹ کر رہی تھی حتیٰ کہ اس کے قدم بھی رکھتی کہیں تھی اور پڑتے کہیں تھے۔
نہیں ایسا تو ہمیشہ سے ہو رہا ہے۔ کئی سالوں سے وہ زندگی میں ہر لمحہ اٹھتے قدم بھی ٹھیک طرح سے جما نہیں پاتی تھی کہ اگلا اٹھتا قدم پہلے قدم کو بھی کمزور کر دیتا تھا۔ کتنے سالوں سے یہی ہو رہاتھا۔ اس نے اپنی انگلیوں کی پوروں پر گننے کی کوشش کی تھی مگر پھر اس کی گنتی رک گئی تھی۔
’’نہیں ۔۔۔میں اس وقت سوچنا نہیں چاہتی۔ بس وہ ماضی تھا گزر گیا۔ کیا میں اس گزر ماضی کے لئے اپنے حال کو خراب کروں۔ ویسے بھی اس وقت میں سونا چاہتی ہوں۔ ایک پرسکون نیند لینا چاہتی ہوں۔‘‘ یہ سوچتے ہی اس نے چاکلیٹ کا ریپر کھولا۔ لیکن وہ ایک مرتبہ پھر خود کو سوچنے سے روک نہیں پیائی تھی۔ وہ چند لمحے پہلے کے واقعات سوچتے ہوئے ہے ساختہ ہی اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری تھی۔
’’کتنا حیران ہو رہا تھا۔‘‘ وہ یہ سوچتے ہوئے لیٹ گئی تھی۔
’’ابھی اسے کچھ نہیں پتہ تبھی وہ پر سکون ہے۔ میں پریشان ہوں کہ مجھے پتہ ہے۔ وہ محض میری حالت دیکھ کر پریشان ہوا ہے۔جب اسے پتہ چلے گا تو وہ بھی پریشان ہو گا اور ۔۔۔۔ اورکیا میں اس کو پریشان دیکھ کر حیران ہونگی۔ کیا اس کا خلاف معمول کام کرنا مجھے حیران کرئے گا۔‘‘ چادر کھول کر ٹانگوں پر پھیلاتے ہوئے اس نے جیسے خود سے سوال کیا تھا۔ اور پھر جیسے گہری سانس لے کر وہ لیٹ گئی تھی۔ سینے تک چادر کھینچتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کرتے سوچا تھا۔
’’نہیں ۔۔۔۔ اس لئے ۔۔۔۔اس لئے کہ مجھے ابھی سے علم ہے۔‘‘ چند لمحے سکت لیٹنے کے بعد اس نے ہاتھ بڑھا کر بیڈ کے قریب دیوار کے ساتھ لگے سوچ بورڈ پر ہاتھ رکھا تھا۔ کمرے میں اندھیرا چھا گیا تھا۔
…to be continued

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - اپریل 21, 2019 at 6:53 صبح

Categories: Uncategorized   Tags:

YAHEEN AA KAA RUKNAA THAA QAFLAA..1st..episode

یہیں آ کے رکنے تھے قافلے

’’نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘صحن میں ستون سے ٹیک لگائے اس نے یہ سوچتے ہوئے سر اُٹھا کر آسمان کی تاریکیوں میں کچھ دیکھنے کی کوشش کی تھی۔’’کیا کچھ نہیں ہو سکتا۔‘‘ اسے اپنے دل سے آواز آتی سنائی دی۔’’ہاں واقعی کیا کچھ نہیں ہو سکتا اور کیا نہیں ہوا؟ کیا کر پائے کچھ بھی تو نہیں۔‘‘بالآخر اس کے ذہن نے بھی دل کی سوچ پر ہار مان کی تھی۔ کتنی ہی دیر وہ پلکیں بند کئے ساکت کھڑی رہی کہ رات کے پرسکون ماحول میں ایک آواز نے ارتعاش پیدا کیا تھا۔ بس یہ ارتعاش لمحے بھر کا تھا۔ اسے لگا تھا کہ جیسے کوئی چیز گری ہو۔ یک لخت ہی اس نے آنکھیں کھولیں تھیں۔ اسے اپنے جسم میں لمحہ بھر کو حرکت محسوس ہوئی تھی۔ ایک لمحے کے لئے ایک انجانے خوف نے اس کے جسم کو اپنی لپیٹ میں لیا اور پھر اس نے خود کو ایک مرتبہ پھر اپنی جگہ پر ساکت پایا تھا۔ آدھی رات کی تاریکی سارے صحن پر قبضہ جمائے ہوئے تھی۔ اس کی نظریں سامنے جم گئیں تھیں۔ وہ جو کوئی بھی تھا اب زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا۔ یقینااس نے دیوار سے چھلانگ لگائی تھی۔ اس نے اب ہیولے کو اپنی جگہ کھڑے ہوتے دیکھا تھا۔اس نے ایک گہری نظر اندھیرے میں نظر آنے والے وجود پر ڈالی تھی اور پھر سے آنکھیں بند کر لیں تھیں۔’’کیا اس نے مجھے دیکھ لیا ہو گا؟‘‘ اس نے سوچا تھا اگلے لمحے اسے اپنے وجود کے کہیں اندر سے آواز آئی تھی۔’’کیوں نہیں جب میں نے اندھیرے میں اسے دیکھ لیا تو وہ زیرو پاور کے بلب کی روشنی میں مجھے اب تک نہ سیکھ پایا ہوگا۔‘‘’’کیا مین گیٹ پر کوئی بلب نہیں؟‘‘ کتنے ہی سالوں میں پہلی مرتبہ اس نے اسبارے میں سوچا تھا۔ بلکہ اس نے اس بات کی ضرورت محسوس کی تھی۔مین گیٹ میں بنے پلر پر بلب ہولڈر تو ہے لیکن کبھی بلب جلتے نہیں دیکھا۔ ہاں میں صبح ہی چھوٹے چچا سے کہہ کر بلب لگواؤں گی۔بند آنکھوں سے سوچتے ہوئے اس کے کانوں میں قدموں کی چاپ سنائی دی تھی۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ چاپ کی آواز اسے قدم قدم قریب سنائی دے رہی تھی اور پھر۔۔۔۔ پھر تھم گئی تھی۔’’ہاں وہ رک گیا ہے اور اب۔۔۔ اب ہمیشہ کی طرح وہ اس پر بگڑے گا۔ اس کے اس طرح صحن میں اپنے انتظار میں کھڑا دیکھ کر غصے میں آئے گا۔‘‘ اور اس کا اندازہ درست نکلا تھا وہ بولا تھا لیکن جو جملہ اس کی زبان سے ادا ہوا تو اسے سن کر وہ یک لخت ہی آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگی تھی۔ کتنے ہی لمحے وہ حیرت سے نظریں اس کے چہرے پر ٹکائے رہی۔’’میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے؟‘‘’’ہا ۔۔۔۔ ہاں۔‘‘ چونکتے ہوئے وہ بے اختیار ہی اپنا دائیاں ہاتھ چہرے تک لے گئی تھی۔ گال کو چھوتے ہی اس نے انگلیوں میں نمی محسوس کی تھی۔’’پتہ نہیں۔‘‘ اگلے ہی لمحے وہ یہ کہتے ہوئے مڑی تھی اور اندر کی جانب بڑھی تھی۔ اس نے ہمیشہ کی طرح مڑکر یہ دیکھنے کی کوشش نہیں کی تھی کہ وہ اس کے پیچھے آرہا ہے یا نہیں۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اندر بڑھتی چلی گئی۔ اور پھر نامحسوس انداز میں وہ اپنی جگہ پر ٹھہر گئی تھی۔ ہمیشہ کی طرح اسے اپنے پیچھے دروازہ لاک کرنے کی آواز سنائی نہیں دی تھی۔ وہ پلٹی تھی۔ اس کا خیال ٹھیک تھا۔ وہ اس کے پیچھے موجود نہیں تھا۔ وہ دروازے کی جانب بڑھی تھی اور دروازے کے درمیان رک کرصحن میں نگاہ ڈالی تھی۔ وہ ابھی تک وہیں کھڑا تھا اور اس کی جانب ہی دیکھ رہا تھا۔’’آ بھی جاؤ اس طرح کیوں کھڑے ہو؟‘‘اتنا کہہ کر وہ ایک مرتبہ پھر پلٹی اس کے قدم کچن کی جانب بڑھ رہے تھے لیکن اس کے کان پیچھے آنے والی آوازوں پر لگے ہوئے تھے۔ دروازہ لاک ہونے کی آواز کے ساتھ ہی اس نے مطمئن ہو کر قدم بڑھائے تھے۔ کچن میں پہنچ کر اس نے برنر آن کیا اور توا اس پر رکھ کر وہ سلیب پر پڑے ہاٹ پاٹ کی جانب بڑھی۔ ڈھکن اٹھا کر روٹی نکالی تھی کہ اسے اپنے پیچھے آواز سنائی دی۔ ’’کیا سب سو رہے ہیں؟‘‘’’آدھی رات کو جاگنے کی کیا تک بنتی ہے؟‘‘ تقریباً روز کیے جانے والے ایک ہی سوال پر وہ ہمیشہ کی طرح ایک ہی جواب میں دہرائے جانے والے جملے کو الفاظ کا روپ نہ دے پائی تھی بس سوچ کررہ گئی تھی۔’’ہاں سب سو رہے ہیں۔‘‘ اس کے غیر متوقع جواب پر اس نے حیرت سے اس کے چہرے کو دیکھا تھا۔’’چائے پےؤ گے؟‘‘ نجانے وہ کتنی دیر اسے دیکھتارہتا کہ اس کی آواز پر وہ دروازے پر سے ہی پلٹ گیا۔…..to be continued

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - اپریل 15, 2019 at 1:55 شام

Categories: English Poetry, happy new year sms, Picture Poetry, shyari/poetry, Uncategorized, Urdu Poetry   Tags:

YAHEEN AA KAA RUKNAA THAA QAFLAA..introduction


یہیں آ کے رکنے تھے قافلے

مریم ماہِ منیر…مصنفہ

نوٹ؛
اس کتاب کے جملہ حقوق بحق مصنفہ محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ مصنفہ کی تحریری اجازت کے بغیر کہیں بھی شائع نہیں کیا جا سکتا۔اگر اس قسم کی صورت حال ظہور پزیر ہوتی ہے تو قانونی کاروائی کا حق محفوظ ہے۔اس کتاب کے تمام کردار فرضی ہیں۔اور اس کتا ب کے کسی بھی حصہ کو بطور سندکسی بھی عدالتی کاروائی میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - at 7:11 صبح

Categories: Uncategorized   Tags:

میں فقط چلتی رہی منزل کو سر اس نے کیا Poet: Parveen Shakir

میں فقط چلتی رہی منزل کو سر اس نے کیا
ساتھ میرے روشنی بن کر سفر اس نے کیا

اس طرح کھینچی ہے میرے گرد دیوار خبر
سارے دشمن روزنوں کو بے نظر اس نے کیا

مجھ میں بستے سارے سناٹوں کی لے اس سے بنی
پتھروں کے درمیاں تھی نغمہ گر اس نے کیا

بے سر و ساماں پہ دل داری کی چادر ڈال دی
بے در و دیوار تھی میں مجھ کو گھر اس نے کیا

پانیوں میں یہ بھی پانی ایک دن تحلیل تھا
قطرۂ بے صرفہ کو لیکن گہر اس نے کیا

ایک معمولی سی اچھائی تراشی ہے بہت
اور فکر خام سے صرف نظر اس نے کیا

پھر تو امکانات پھولوں کی طرح کھلتے گئے
ایک ننھے سے شگوفے کو شجر اس نے کیا

طاق میں رکھے دیے کو پیار سے روشن کیا
اس دیے کو پھر چراغ رہ گزر اس نے کیا

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - اگست 10, 2018 at 1:25 صبح

Categories: English Poetry, Picture Poetry, shyari/poetry, Urdu Poetry   Tags:

جاؤ قرار بے دلاں شام بخیر شب بخیر Poet: Jaun Elia

جاؤ قرار بے دلاں شام بخیر شب بخیر
صحن ہوا دھواں دھواں شام بخیر شب بخیر

شام وصال ہے قریب صبح کمال ہے قریب
پھر نہ رہیں گے سرگراں شام بخیر شب بخیر

وجد کرے گی زندگی جسم بہ جسم جاں بہ جاں
جسم بہ جسم جاں بہ جاں شام بخیر شب بخیر

اے مرے شوق کی امنگ میرے شباب کی ترنگ
تجھ پہ شفق کا سائباں شام بخیر شب بخیر

تو مری شاعری میں ہے رنگ طراز و گل فشاں
تیری بہار بے خزاں شام بخیر شب بخیر

تیرا خیال خواب خواب خلوت جاں کی آب و تاب
جسم جمیل و نوجواں شام بخیر شب بخیر

ہے مرا نام ارجمند تیرا حصار سر بلند
بانو شہر جسم و جاں شام بخیر شب بخیر

دید سے جان دید تک دل سے رخ امید تک
کوئی نہیں ہے درمیاں شام بخیر شب بخیر

ہو گئی دیر جاؤ تم مجھ کو گلے لگاؤ تم
تو مری جاں ہے میری جاں شام بخیر شب بخیر

شام بخیر شب بخیر موج شمیم پیرہن
تیری مہک رہے گی یاں شام بخیر شب بخیر

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - اگست 8, 2018 at 5:15 شام

Categories: English Poetry, Picture Poetry, shyari/poetry, Urdu Poetry   Tags:

کمال جوش جنوں میں رہا میں گرم طواف Poet: Allama Iqbal

کمال جوش جنوں میں رہا میں گرم طواف
خدا کا شکر سلامت رہا حرم کا غلاف

یہ اتفاق مبارک ہو مومنوں کے لیے
کہ یک زباں ہیں فقیہان شہر میرے خلاف

تڑپ رہا ہے فلاطوں میان غیب و حضور
ازل سے اہل خرد کا مقام ہے اعراف

ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازیؔ نہ صاحب کشافؔ

سرور و سوز میں ناپائیدار ہے ورنہ
مے فرنگ کا تہ جرعہ بھی نہیں ناصاف

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - اگست 7, 2018 at 6:46 شام

Categories: English Poetry, Picture Poetry, shyari/poetry, Uncategorized, Urdu Poetry   Tags: ,

Quick weight Loss Tips

Get an online weight loss buddy to lose more weight
A University of Vermont study found that online weight-loss buddies help you keep the weight off. The researchers followed volunteers for 18 months. Those assigned to an Internet-based weight maintenance program sustained their weight loss better than those who met face-to-face in a support group. You and your weight loss buddy can share tips like these ways to lose weight without exercise.

Add 10 percent to the amount of daily calories you think you’re eating
If you think you’re consuming 2000 calories a day and don’t understand why you’re not losing weight, add another 200 calories to your guesstimate. Chances are, the new number is more accurate. Adjust your eating habits accordingly. For instance, your cup of coffee might have more calories than you thought.

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - اگست 5, 2018 at 2:09 صبح

Categories: Health Tips, Weight Loss   Tags:

وہ شخص کہ میں جس سے محبت نہیں کرتا Poet: Qateel Shifai

وہ شخص کہ میں جس سے محبت نہیں کرتا
ہنستا ہے مجھے دیکھ کے نفرت نہیں کرتا

پکڑا ہی گیا ہوں تو مجھے دار پہ کھینچو
سچا ہوں مگر اپنی وکالت نہیں کرتا

کیوں بخش دیا مجھ سے گنہ گار کو مولا
منصف تو کسی سے بھی رعایت نہیں کرتا

گھر والوں کو غفلت پہ سبھی کوس رہے ہیں
چوروں کو مگر کوئی ملامت نہیں کرتا

کس قوم کے دل میں نہیں جذبات براہیم
کس ملک پہ نمرود حکومت نہیں کرتا

دیتے ہیں اجالے مرے سجدوں کی گواہی
میں چھپ کے اندھیرے میں عبادت نہیں کرتا

بھولا نہیں میں آج بھی آداب جوانی
میں آج بھی اوروں کو نصیحت نہیں کرتا

انسان یہ سمجھیں کہ یہاں دفن خدا ہے
میں ایسے مزاروں کی زیارت نہیں کرتا

دنیا میں قتیلؔ اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - اگست 4, 2018 at 8:52 شام

Categories: English Poetry, Picture Poetry, shyari/poetry, Urdu Poetry   Tags:

lmtiaz Ali Taj {prose and drama writer}

Syed lmtiaz Ali Taj is a Pakistani prose and drama writer. He was born in Lahore. After his education, he was able to partake in his father’s publishing institution, Dar-ul-Ishaat Punjab.

During his college days he showed his literary qualities by translating and directing several English plays, and then staging them for the college. He sometimes played female roles as girls in his times were not allowed to act.

His earliest involvement with publications began with ‘Phool’, a children’s periodical and ‘Tahzeeb-e-Niswan’ for women readership.

In 1918 he began the literary magazine called ‘Kehkashan’ in collaboration with his friend, Maulana Abdul Majeed Salik. In Phool he had the assistance of the famous short story writer Ghulam Abbas Ahmed as well as young Ahmed Nadeem Oasmi.

He translated into Urdu Shakespeare’s play ‘A Mid Summer Nights Dream’ and entitled it in ‘Sawan Rain ka sapna’. In 1922 he wrote ‘Anarkali’, which became a landmark in Urdu drama writing. This was later adapted into feature films in India and Pakistan.

In 1926 he wrote a play ‘Chacha Chhakan’ which was similar to the famous characters ‘Uncle Podger’ of the English dramatist Jerome, Chacha Chhakan remains until today the most humorous character in the Urdu literature.

Apart from criticism on drama, he also wrote radio plays, novels, short stories and several film stories, some of them directed by him. As the Director of ‘Majlis’ he republished many critical works of Urdu literature.

After the establishment of Pakistan, Syed lmtiaz Ali Taj conducted a daily feature ‘Pakistan Hamara Hai’ for Radio Pakistan. It was no doubt a popular programme.

On 19th April, 1970 while he was asleep, he was shot dead by some unknown persons. His wife Hijab lmtiaz Ali was seriously wounded.

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - اگست 3, 2018 at 12:31 صبح

Categories: online urdu stories, Picture Poetry, Urdu Poetry   Tags:

Knowledge About Literature History

Literature has a history which is famous due to his dominating power in writing like poetry, gazal, afsana, novel, nazam, short story. It is the national language of Pakistani Urdu is popular a lot of in India and almost used in Afghanistan.
Urdu holds a lots of material on Islamic literature and Sharia.Pakistani and Indian Christian often used Roman script for Urdu writing. Urdu have a vocabulary rich in words.The importance of Urdu is visible in religious world.
Famous Urdu personalities are achieve popularity due to their fantastic abilities writing in Urdu like Mira-al-urus, bani-tun-nash, Zindagi, tau-bat-u-Nashua, Sanaa-e-subtotal. It become embued many word from the regional language of Pakistan.there are many stat language Pakistan like as Punjabi, Ashton, postwar, hind, Harri, Shari, Baltic, we translate all these languages in Urdu. A most of newspapers are publish in Urdu like daily jang etc.

Urdu Novels

1 comment - What do you think?  Posted by admin - اگست 2, 2018 at 9:00 شام

Categories: English Poetry, Picture Poetry, shyari/poetry, Top Searches, Urdu Poetry   Tags:

Good Night

http://funnysms.pakreseller.com/cat/dua-prayers-sms/
http://www.sms2friends.com/dua-sms/

https://uniquefunnysms.wordpress.com/2009/05/26/best-collection-of-new-dua-prayers-sms/

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - جولائی 30, 2018 at 9:59 شام

Categories: Uncategorized   Tags:

گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح Poet: Parveen Shakir

گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح
دل پہ اتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح

راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسر کرنی ہے
جل چکے ہیں مرے خیمے مرے خوابوں کی طرح

ساعت دید کہ عارض ہیں گلابی اب تک
اولیں لمحوں کے گلنار حجابوں کی طرح

وہ سمندر ہے تو پھر روح کو شاداب کرے
تشنگی کیوں مجھے دیتا ہے سرابوں کی طرح

غیر ممکن ہے ترے گھر کے گلابوں کا شمار
میرے رستے ہوئے زخموں کے حسابوں کی طرح

یاد تو ہوں گی وہ باتیں تجھے اب بھی لیکن
شیلف میں رکھی ہوئی بند کتابوں کی طرح

کون جانے کہ نئے سال میں تو کس کو پڑھے
تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح

شوخ ہو جاتی ہے اب بھی تری آنکھوں کی چمک
گاہے گاہے ترے دلچسپ جوابوں کی طرح

ہجر کی شب مری تنہائی پہ دستک دے گی
تیری خوش بو مرے کھوئے ہوئے خوابوں کی طرح

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - جولائی 29, 2018 at 6:02 شام

Categories: English Poetry, Picture Poetry, shyari/poetry   Tags: , , , ,

Friendship sms(05)

A B C D E F G H I J K L M N O P Q R S T ( ) V W X Y Z.
Did I miss any letter?
No..No.
I have put (U) safely in my HEART as a sweet friend.

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - جولائی 26, 2018 at 7:20 صبح

Categories: friendship sms, Mobile Sms   Tags:

Woo Ahsaas ie Zaiaan by Maryam Mah Munir

Woo-Ahsaas-ie-Zaiaan-by-maryam-mah-munirWoo-Ahsaas-ie-Zaiaan-1-by-maryam-mah-munirWoo-Ahsaas-ie-Zaiaan-2-by-maryam-mah-munirWoo-Ahsaas-ie-Zaiaan-3-by-maryam-mah-munirWoo-Ahsaas-ie-Zaiaan-4-by-maryam-mah-munir

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - جولائی 25, 2018 at 12:00 صبح

Categories: online urdu stories   Tags: , , ,

maryam mah munir..1

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - جولائی 15, 2018 at 6:10 صبح

Categories: Uncategorized   Tags:

maryam mah munir..6

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - جولائی 6, 2018 at 6:22 صبح

Categories: English Poetry, Picture Poetry, shyari/poetry, Top Searches, Uncategorized, Urdu Poetry   Tags:

maryam mah munir..3

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - جولائی 5, 2018 at 6:12 صبح

Categories: Picture Poetry, shyari/poetry, Uncategorized, Urdu Poetry   Tags:

maryam mah munir..7

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - جولائی 2, 2018 at 6:20 صبح

Categories: shyari/poetry, Top Searches, Uncategorized, Urdu Poetry   Tags:

maryam mah munir….

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - at 6:09 صبح

Categories: Uncategorized   Tags:

Mein Habib Hoon by Maryam Mah Munir

http://freeurdudigest.blogspot.com/2016/12/mein-habib-hun-novel-by-maryam-mah-e.html

Be the first to comment - What do you think?  Posted by admin - مئی 26, 2018 at 3:29 شام

Categories: Uncategorized   Tags:

google

اگلا صفحہ »